🔮استغفار کی برکت
ایک سفر کے دوران امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کسی شہر میں رات گزارنے کے لیے مسجد میں داخل ہوئے۔ مگر مؤذن یا خادمِ مسجد نے انہیں پہچانا نہیں اور کہا: “یہاں رات گزارنا منع ہے۔”
امام احمد رحمہ اللہ نے نرمی سے فرمایا: “میں صرف چند لمحوں کے لیے یہاں ٹھہر جاؤں؟”
مگر وہ شخص بضد رہا اور انہیں مسجد سے باہر نکال دیا۔
امام احمد رحمہ اللہ نے مسجد کے صحن میں لیٹنے کی کوشش کی تو وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ اسی دوران قریب ہی ایک نانبائی موجود تھا۔ اس نے امام احمدؒ کی حالت دیکھی اور کہا:
“آئیے، میرے گھر چلئے، میں آپ کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہوں۔”
جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نانبائی کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ شخص ہر وقت “استغفر اللہ” پڑھ رہا ہے۔ روٹیاں پکاتے وقت، گوندھتے وقت، اُٹھتے بیٹھتے ہر لمحہ اُس کی زبان پر استغفار جاری تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ نے پوچھا:
“تمہیں اس کثرتِ استغفار سے کیا فائدہ ہوا؟”
نانبائی نے جواب دیا:
“جب سے میں نے یہ معمول بنایا ہے، جو بھی دعا مانگتا ہوں، اللہ تعالیٰ قبول فرما دیتا ہے — سوائے ایک دعا کے جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔”
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:
“وہ کون سی دعا ہے؟”
نانبائی نے کہا:
“میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ مجھے امام احمد بن حنبلؒ کی زیارت نصیب ہو۔”
یہ سن کر امام احمدؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا:
“سبحان اللہ! میں ہی احمد بن حنبل ہوں۔ اللہ نے مجھے تمہارے دروازے تک کھینچ لایا تاکہ تمہاری دعا قبول ہو جائے!”
( رجب الحنبلي ، طبقات الحنابلة ٥٤/١ ،
ابن الجوزی، مناقب الإمام أحمد، ص ١٩٠)
اللّٰہم اجعلنا من المستغفرین الصادقین۔
